Search Patriotic Song,Singer,Poet in This Blog.

Showing posts with label Taj Multani. Show all posts
Showing posts with label Taj Multani. Show all posts

Friday, August 24, 2018

Old Pakistani Patriotic Songs ( 1960 's ) Article by Absar Ahmed




 !!ذکرساٹھ کی دہائی کے مقبول قومی نغموں کا ۔۔۔۔ 

   !تمام اہلَ وطن کو جشنِ تخلیقِ پاکستان مبارک 
آج صبح محترم جناب عابد علی بیگ یا غالباََ شکور پٹھان صاحب کی پوسٹ  جنگِ ستمبر سے قبل کے ملّی نغمات  بارِ دگر نگاہ سے گذری ۔ قومی نغمات پر مضامین پڑھنے کا اپنا ہی لطف ہے اور وہ بھی جب جناب شکور پٹھان جناب عقیل عباس جعفری یا پھر جناب عابد علی بیگ جیسے افراد لکھ رہے ہوں ۔ ویسے لاہور ریڈیو کے معروف براڈ کاسٹر محترم سلیم الرحمٰن صاحب خوب لکھتے ہیں کہ قاری اُن کے لفظوں میں بہہ کر اُنہی لمحات میں کھوجاتا ہے تاہم آج تک قومی نغمات پر اُن کا کوئی مضمون نگاہ سے نہیں گذرا۔ عابد صاحب نے جنگِ ستمبر سے قبل ،معروف قومی نغمات کے حوالے دیے تھے تو سوچا کہ اب وقت کی فراغت کو غنیمت جانتے ہوئے 60 کی دہائی کے معروف قومی نغمات پر کچھ لکھوں ۔ ویسے اُس عشرے کے گذرجانے کے 17 برس بعد یعنی 1987 کو میں نے آنکھیں کھولیں لیکن چشمِ تصور میں وہ دور بھی محسوس کرسکتا ہوں جب گھروں میں گراموفون یا ریڈیو گرام ہوتے تھے ۔ 78 کی رفتار والے ریکارڈز کا زمانہ جارہا تھا اور 45 کی رفتار والے پلاسٹک کے ریکارڈ آنا شروع ہوگئے تھے جن کی عمر بھی طویل ہوتیں اسی لیے میرے پاس قومی نغمات کے کئی ریکارڈ بالکل نئی حالت میں موجود ہیں ! بہرحال بات ہورہی تھی قومی نغمات کی تو اس ضمن میں جنگِ ستمبر کے جنگی ترانوں کی اپنی ہی ایک تاریخ ہے اور وہ خود قومی نغمات کا اہم باب ہیں جن پر پاک فوج کے سرکاری جریدے   " ہلال  " میں "   گیت بنے ہتھیار  "  جیسا مضمون لکھ چکا ہوں جو الحمداللہ ایک حوالہ بن چکا ہے اسی لیے جنگی ترانوں کو ہذف کرکے اُس دور کے کچھ معروف قومی نغمات کا ذکر کرتا ہوں ۔ 
  سلیم رضا اور احمد رشدی نے  1964 میں کراچی ریڈیو پر خلیل احمد کی موسیقی میں حمایت علی شاعر کے 2 قومی نغمات  " سوئے منزل چلے اور بہ یک دل چلے " اور " ساتھیو ! سبز پرچم اڑاتے چلو  زندگی کے ترانے سناتے چلو " ریکارڈ کروائے ۔ آخرالذکر قومی نغمہ تو گویا وطنِ پاک کے دلکش مناظر اور صبحِ وطن کی خوبصورت تصویر پیش کررہا تھا خلیل احمد نے اس کی موسیقی بھی خوب ترتیب دی جو رزمیہ انداز کی تھی۔ موصوف اُن دنوں کراچی کے علاقے انکوائری آفس ناظم آباد میں مقیم تھے اور ریڈیو پر گاہے بہ گاہے طرز سازی کرتے ۔ یہ نغمہ حال ہی میں اپنے ایف ایم پروگرام  ہرتان پاکستان  میں شامل کیا تو کئی افراد کے فون اور پیغامات آئے اور انہوں نے اپنی اس گمشدہ یاد کو زندہ کرنے پر مبارک باد دی ۔ اللہ سب کو خوش رکھے ( آمین ) ۔ 
ان نغمات کے علاوہ دورانِ جنگ حبیب جالب مرحوم کے بھائی مشتاق مبارک نے ایک پر جوش قومی نغمہ لکھا جو جنگی حالات کے ساتھ ساتھ عمومی قومی نغمہ بھی تھا ، بول بھی کیا خوب تھے کہ 
 جینا ہے اگر یارانِ وطن ۔۔۔ جینا ہے اگر یارانِ وطن
اخلاص و وفا کی شمعوں سے پُرنور کرو ایوانِ وطن
اس نغمہ کا ٹیپ کا مصرع تھا کہ 
 تاریخ کی جب بھی آنکھ اٹھے’’ 
 ‘‘بے داغ ملے دامانِ وطن
اس پرجوش نغمے کو اقبال علی، تاج ملتانی ،ایس بی جان اور ساتھیوں نے گایا تھا لیکن اس میں واضح آواز اقبال علی مرحوم کی تھی ۔ اقبال علی صاحب کراچی ریڈیو کے اہم گلوکار تھے جن کی مردانہ آواز سامعین کو متاثر کرتی اور اُن کے قومی نغمات تو گویا اُن کی پہچان بن گئے ، اقبال علی غالباََ 1988 کو دنیا سے رخصت ہوئے تھے ۔ اُن کی شادی ریڈیو کی معروف گلوکارہ رشیدہ بیگم سے ہوئی اوراُن سے ہونے والی ایک بیٹی صدف اقبال نے بھی گلوکاری شروع کی تھی لیکن اب معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں ؟ رشیدہ بیگم نے بھی اسی عشرے میں کئی یادگار قومی نغمات گائے جن میں جنگ کے دوران عالم تاب تشنہ کا تحریر کردہ قومی نغمہ ’’ مہک رہا ہے وفا کے گُلوں سے یہ صحنِ چمن‘‘  بے حد مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ 1967 میں اقبال علی ، رشیدہ بیگم اور دیگر آرٹسٹس نے مل کر قائدِ اعظم کو شاندار نذرانہ ’’ اے قائدِ اعظم تو زندہ رہے گا پائندہ رہے گا ‘‘ بھی ریکارڈ کروایا ۔ 
اے نگارِ وطن، اے وطن کی زمیں ۔۔۔ تیرا ثانی زمانے میں کوئی نہیں‘‘ بھی انہی گلوکاروں کا شاندار نذرانۂ وطن تھا ۔’’ 
اب بات کرتے ہیں دہلی میں پیدا ہوکر ملتان میں سکونت اختیار کرنےوالی گلوکارہ اقبال بانو کی جنہوں نے دیگر کئی فنکاروں کی طرح جنگِ ستمبر ہی میں قومی نغمات کی دنیا میں قدم رکھا اور کئی یادگار قومی نغمات گائے ۔ اقبال بانو کی آواز میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا تحریر کردہ قومی نغمہ :
اے جوانانِ وطن اے جوانانِ وطن’’  
تم سے ہی ہر لحظہ خندہ ہیں گلستانِ وطن 
تم سے ہی ہر وقت تازہ ہیں بہارانِ وطن
تم اگر چاہو تو لوٹ آٸیں وہ ایامِ کہن 
 ‘‘اے جوانانِ وطن اے جوانانِ وطن 
مقبولیت حاصل کرگیا جس میں قوم کے جوانوں کو مخاطب کرکے انہیں قوم کا معمار بتایا گیا تھا ۔ استاد نتھو خاں صاحب کی موسیقی سے سجے اقبال 
 بانوکے اس نغمے کا خمار ابھی اترا ہی نہیں تھا کہ انہوں نے بینش سلیمی کا تحریر کردہ نغمہ 
‘‘ میرے وطن کے نوجواں ، وطن کے گیت گائے جا ‘‘
 گاکر نوجوانوں کو موٹیویٹ کیا ۔ ان نغمات میں نوجوانوں سے مراد فوجی بھائی ہی لیے جاتے تھے لیکن یہ دونوں نغمات اسکاؤٹس جمبوری میں بھی پیش ہوتے ۔ 
شہنشاہِ غزل مہدی حسن خاں صاحب مرحوم بھی اُس دور کے قومی نغمات میں نمایاں رہے اور اُ ن کی آواز میں میجر ضمیر جعفری صاحب کا تحریر کردہ نغمہ 
 جھلمل جھلمل ہر چہرے پر ہمت کا لشکارا’’
افق افق پر چاندی سونا روشن چاند ستارہ 
‘‘پاکستان ہمارا 
بھی مقبول ہوا تو حمید نسیم کے تحریر کردہ نغمے 
 تیرا وجود ہے میری ہستی’’  
میری نمود ہے تیری شان 
‘‘میرے پیارے پاکستان
 نے بھی قومی نغمات میں اُن کے مقام کو مزید بلند کیا ان دونوں نغمات کی موسیقی جناب نہال عبداللہ صاحب نے مرتب کی تھی جو مہدی حسن صاحب کے ماموں تھے ۔ خاں صاحب کی آواز میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب کا تحریر کردہ نغمہ 
 ہمت کے شناور کو بھنور بھی ہے کنارہ’’  
 ‘‘کشتی کا بھروسا نہ کھویّے کا سہارا
 بھی اُس وقت موجود افراد کو ضرور یاد ہوگا یا پھر یہ سطور پڑھتے ہوئے اُن کے ذہن میں فوراََ تازہ ہوجائے گا ۔ مہدی صاحب کے اِن نغمات پر تبصرہ کرنا تو میرے لیے ممکن نہیں ہاں البتہ میرے کرم فرما اور محقق کلاسیکل نغمات برادرم جناب عرفان گبول صاحب اس بارے میں جرور بتاسکتے ہیں کہ وہ کس راگ اور ٹھاٹھ میں کمپوز ہوئے !
احمد فراز کا تحریر کردہ نغمہ ’’ دائم آباد رہیں تیری انجمن ، اے وطن اے وطن اے وطن ‘‘ نگہت سیما کی آواز میں نشر ہوکر مقبول ہوا تاہم اس  نغمے کو 1971 کی جنگ میں طاہرہ سید نے ایک نئی طرز کے ساتھ گایا تو نگہت سیما صاحبہ کا نغمہ ماضی میں کھوگیا۔ ممکن ہے کسی کو یاد ہو 
اُس دور میں تاج ملتانی صاحب کا نام نہ لینا ذیادتی ہوگی جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے ذیادہ قومی نغمات گائے ہیں جو ذیادہ تر جنگی ترانے تھے ،1968 میں بہزاد لکھنوی مرحوم کا تحریر کردہ نغمہ ’’ یومِ آزادی پر کرتے ہیں ہم پرچم کو سلام‘‘اور کلامِ اقبالؒ ’’ یارب ! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے ‘‘ اور ’’ یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے ‘‘ نے تو گویا تاج ملتانی کی شہرت کو چار چاند لگادیے تھے ۔ ان نغمات میں اقبال علی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔
عشرت جہاں صاحبہ جو اِس وقت بقیدِ حیات اور علیل ہیں کجن بیگم اور شمیم بانو جیسی ریڈیو آرٹسٹس کی ہمشیرہ تھیں انہوں نے کوکب جہاں کے ساتھ مل کر جناب جوہر میر صاحب کا تحریر کردہ نغمہ’’ سرزمینِ وطن ، ذرہ ذرہ تیرا رشکِ لعلِ یمن ‘‘ گایا جو اُس دور کا ایک اور یادگار نغمہ ہے ۔
کراچی ریڈیو کی ایک اور فنکارہ خورشید بیگم جن کی آواز قومی ترانے میں بھی شامل ہے وہ بھی بقیدِ حیات اور لندن میں مقیم ہیں اُن کی آواز میں جناب الطاف پرواز صاحب کا تحریر کردہ نغمہ ’’ اے وطن پاک وطن ، میری آنکھوں کے لیے سُرمہ تیری خاک وطن‘‘ بھی مقبول اور یادگار قومی نغمات میں شمار ہوتا ہے ۔
ساٹھ کے عشرے کے آخری سالوں میں ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں جناب منظر ایوبی صاحب کا تحریر کردہ نغمہ
 چڑھتا چاند ابھرتا سورج پیارا پاکستان
دلکش دلکش روشن روشن سارا پاکستان 
اور 
1970 میں نگہت سیما ، اقبال علی، اسما احمد اور دلشاد بٹ کی آوازوں میں صہبا اختر کا لکھا ہوا نغمۂ پرچم ’’ سلام پرچمِ وطن سلام ‘‘ بھی اس عشرے کے معروف اور ہر دلعزیز قومی نغمات تھے ۔ ملکہ ترنم کا نغمہ پہلے زوار حسین اور ساتھیوں نے بھی گایا تھا ۔
کلامِ اقبالؒ جو ملّی نغمات ہی کی اہم جہت ہیں اُن میں شمیم بانو ، تاج ملتانی اور ساتھیوں کی آوازوں میں ’’ کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ ‘‘ اور شمیم بانو ہی کے ہمراہ کجن بیگم ، عشرت جہاں اور ساتھیوں کی آوازوں میں استاد نتھو خاں صاحب کی مستند طرز پر ’’ خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ‘‘ نمایاں اور مقبول قومی نغمات ہیں ۔ زوار حسین صاحب کی آواز میں مہدی ظہیر کی موسیقی میں فارسی کلامِ اقبالؒ " تیز ترک گامزن منزلِ مادور نیست " کا شمار بھی یادگار قومی نغمات میں ہوتا ہے جو صدر ایوب خان کے عشرہٕ ترقی کے موقع پر روزانہ ریڈیو سے صبح کی پہلی مجلس میں نشر ہوتا ۔ اس کی موسیقی میں اونٹوں کے قافلے کو مدنظر رکھتے ہوئے گھنٹیوں کی آوازیں بھی شامل کی کیں کیونکہ زبورِ عجم میں شامل اس نظم کا  عنوان ہی " نغمہٕ سارباں " ہے ۔
وہ عشرہ دورِ ایوبی پر محیط تھا اسی لیے جنگِ ستمبر کے بعد ریڈیو سے کورس آوازوں میں رئیس فروغ مرحوم کا تحریر کردہ شانِ ایوبی میں نغمہ ’’رہبرِ محترم ہم ترے ساتھ ہیں‘‘ بھی جنگ کے دوران مقبول ہوا ۔ جنرل ایوب خان مرحوم سے لوگوں کو اختلاف ہوسکتا ہے لیکن اپنے والد سمیت کئی افراد کو ایوب خان کا پُر زور حامی پایا ہے اور حال ہی میں شکور پٹھان صاحب کے بلاگ نے تو اُس دور کی تصویر اور واضح کردی ۔ کیا زمانہ ہوگا کہ جب سادہ مزاجی اور سادہ طبیعت عام تھی !
ساٹھ کی دہائی ہمارے قومی نغمات کے عروج کی دہائی تھی جس میں بے شمار اور بیش بہا قومی نغمات بنے لیکن ماضی کی صرف چند صوتی تصاویر بس یونہی آپ کو دکھا دیں ورنہ مضمون لکھنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔ یقینا یہ عہد جس جس نے دیکھا ہوگا انہیں ہمارے یہ قومی نغمات ضرور یاد آئیں گے جن میں سے اکثر اب نایاب ترین ہیں جس کی وجہ مستند اداروں کی اس جانب بے اعتنائی اور پھر گراموفون کمپنیوں کی جانب سے ان کے ریکارڈ ریلیز نہ کرنا ہے پھر بھی کانوں کی دہلیز پر یہ نغمات احساس میں دستک دیتے رہیں گے ۔
( ابصار احمد )

Tuesday, May 19, 2015

Jangi Taranay Jhankaar جنگی ترانے


Pakistani Jangi Taranay Jhankaar
(پاکستانی یادگار جنگی ترانے (جھنکار کے ساتھ 




اے مردِ مجاہد جاگ ذرا، گلوکار : عنایت حسین بھٹی


اپنی جاں نذر کروں ، گلوکار : مہدی حسن


بھلا جی ہن دھر رگڑا، گلوکار : عنایت حسین بھٹی


دشمنو! تم نے اس قوم کو للکارا ہے ، گلوکار : تصور خانم و شاکت علی


جاگ اٹھا ہے سارا وطن ، گلوکاران : مسعود رانا، شوکت علی و نورجہاں بیگم


کرنیل نی جرنیل نی ، گلوکارہ : نوجہاں


جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی، گلوکاران : تاج ملتانی و نگہت سیما اور دیگر


میریا ڈھول سپاہیا ، گلوکارہ : نورجہاں 


میرا سوہنا شہر قصور نی ، گلوکارہ : نورجہاں


ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ، گلوکارہ : نورجہاں


اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں ، گلوکار: مسعود رانا و دیگر




Friday, November 16, 2012

Marhaba Azm-o-Shuja'at Ke Alambardaro! Marhaba ( War Song-Lyrics )

Marhaba Azm-o-Shuja'at ke Alambardaro!
Marhaba.......................................Marhaba
Mulk mai Apni Fazaaon ke Nigehbaa'n Tum ho
Raah-e-Haq mai kiya karte hain Is tarah Jihad
Tum ne Duniya ko Dikhaya ke Musalma'n Tum ho
Marhaba.....................................Marhaba
Marhaba Azm-o-Shuja'at ke Alambardaro!
Marhaba.......................................Marhaba
Tum pe Nazaa'n hai Watan Tum ho Watan ki Izzat
Tum ne Tufan-e-Bala Khez ke Rukh Mor diye
Sarhad-e-Pak pe Rakhe thay jo Gheron ne Qadam
Marhaba Tum ne Woh Na Pak Qadam Tor diye
Marhaba.....................................Marhaba
Marhaba Azm-o-Shuja'at ke Alambardaro!
Marhaba.......................................Marhaba
Kasrat-e-Kufr se Takrate hain Imaa'n Wale
Ma'arke Aise ba Har Daur Huwa Karte hain
Tum ne Taareekh mai Ik Bab Naya Likha hai
Zinda Qaumon ke Yahi Taur huwa karte hain
Marhaba.....................................Marhaba
Marhaba Azm-o-Shuja'at ke Alambardaro!
Marhaba.......................................Marhaba
Sheva-e-Mard-e-Musalma'n hai Hubb-ul-Watani
Sar-e-Dar ho ya Halqa-e-Zanjeer mai ho
Zauq-e-Azadi Dabane se Kaheen Dabta hai
Al-Jazaair mai ho Qabras mai ho Kashmir mai ho
Marhaba.....................................Marhaba
Marhaba Azm-o-Shuja'at ke Alambardaro!
Marhaba.......................................Marhaba

Singer            : Chorus
Poet               : Ashoor Kazmi
Released       : Sept.1965 ( During War )
Radio Pakistan Karachi.

Thursday, April 26, 2012

Aj Hindiyan Jang di Gal Chheree'n....Jang Khed Nai Hondi Zananiyaa'n di ( Lyrics & Download )

Aj Hindiyan Jang di Gal Chhereen 
Ankh hui Heraan heraniyan di 
Mharaj aye Khed Talwaar di aye
Jang Khed nai hondi Zananiyan di
Jang Khed nain hondi Zananiyan di
Asee'n Sindhi Bangali Baloch Pathay
Asee'n Putar Punjab de Paaniyan di
Asee'n Nasal Mehmood(Ra) jehe Ghaziyan di
Dudh pitay ne Maawa'n Pathaniyan di
Pehloon cher ke hun pai nasday o
Sat sot tay Pakistaniyan di
Maharaj aye khed Takwar di ae 
Jang Khed nai hundi Zananiyan di
Jang Khed nain hundi Zananiyan di
Sohn Rab di Jibh noo'n wadh dieye
Mandi jo di karay Pakistan di gal
Wich khariyan de aakay khuldi aye
Kehri sacchi aye kehray Pehalwan di gal
Aslaha hor kujay Jazba hor sheway
Kufr samajh ki sakay Imaan di gal
Mul or Shaheeda'n de Khoon da aye
Qeenat hor aye Ganga de Paniya'n di
Maharaj aye khed Takwar di ae 
Jang Khed nai hundi Zananiyan di
Jang Khed nain hundi Zananiyan di
Tusi danday noo'n devta manday o
Asaa'n Rag Tuhadi pehchan li aye
Asee'n Maut noo'n Zindagi janday haan
Saadi Maut Islam di Shaan li aye
Bhaawen Zindagi te Bhaawen Maut howe
Jo kuj vi aye Pakistan liye aye
Saday jazbayan sohn jag khanda 
Saahnu jaach aye nit Qurbaniyan di
Maharaj aye khed Takwar di ae 
Jang Khed nai hundi Zananiyan di
Jang Khed nain hundi Zananiyan di
Tusi Zulm Aqleeyatan naal karke
Kari waang ubaal khawanday o
Dilli duur da nai Asaa'n Ghaziyan too'n
Kaahno jan ke maut balawanday o
Lal Qila te Taj Mehal saday
Saahnu chher ke yaad dilawanday o
Asee'n sabhe hisaab chukawande ne
Saahnu qasam aye ainhaan nishaniyan di
Maharaj aye khed Takwar di ae 
Jang Khed nai hundi Zananiyan di
Jang Khed nain hundi Zananiyan di
Mile Maut te mile Shahadatan di
Ghazi wich maidaan de gajde ne
Maut tabay sada Shaheeda'n di aye
Momin Maut koloon kadoo'n raj de ne
Sohn Rab di Mustafa(SaW) Aap akay
Kamli Naal Shaheedan noo'n kaj de ne
Wela Aya Jehad da phir Anwer
Qismat jaag payee Pakistanian di
Maharaj aye khed Takwar di ae 
Jang Khed nai hundi Zananiyan di
Jang Khed nain hundi Zananiyan di



Singer               : Taj Multani & Chorus

Poet                   : Dr.Rasheed Anwer
Music                : Natthu Khan
Released           : 15th Sept 1965 ( During War )
Radio Pakistan Karachi.


Jang Khed nai hondi zananiyan di by Taj Multani-Special Jhankar- MP3 Free Download-Click Here

 
Jang Khed Nahi Hundi Zananiyan di ( with Jhankar ) by Taj Multani-MP3 Free Download










Tuesday, April 17, 2012

Mashriqui Pak ke Naujawan Ghaziyo! ( Lyrics )

Mashriqui Pak ke Naujwaa'n Ghaziyo!
Mashriqui Pak ke Kamraa'n Ghaziyo!
Mashriqui Pak ke Naujwaa'n Ghaziyo!
Mashriqui Pak ke Kamraa'n Ghaziyo!
Ghaziyo!...............................Ghaziyo!
Tum ne Is Jang mai Apne Khoo'n se Likha
Daftar-e-Azmat-o-Imtiaz-e-Watan
Behr-o-Bar mai Fiza mai Khuda ki Qasam
Tum pe Is Qaum ko Fakhr hai Naz hai
Mashriqui Pak ke Naujwaa'n Ghaziyo!
Mashriqui Pak ke Kamraa'n Ghaziyo!
Ghaziyo!...............................Ghaziyo!
Dono Soobay hain Ik Bagh Is Bagh mai
Rang-o-Bu Tum se hai Rang-o-Bu Hum se hai
Tum se Shan-e-Watan Hum se Aan-e-Watan
Mashriqui Pak ki Aabroo Hum se hai
Maghribi Pak ka Tum se Aizaz hai
Mashriqui Pak ke Naujwaa'n Ghaziyo!
Mashriqui Pak ke Kamraa'n Ghaziyo!
Ghaziyo!...............................Ghaziyo!
Sab Mahazon pe Shaana ba Shaana Laray
Khoon Dono ka Pehlu ba Pehlu baha
Sar Buland Aj kion hon Ahl-e-Watan
Aik Älam pe jo Dafátan Chha gaya
Aik Aisa bhi tum mai Hawa Baz hai
Han Hawa Baz hai...................................
Mashriqui Pak ke Naujwaa'n Ghaziyo!
Mashriqui Pak ke Kamraa'n Ghaziyo!
Ghaziyo!...............................Ghaziyo!


Singer           : Zubaida Khanam, Ishrat Jehan, M.Kaleem & Chorus
Poet              : Joan Aeliya
Music            : ?
Radio Pakistan Lahore
It is memorable song about East Pakistan.Very rare Song not Available even Radio Pak Library.



Saturday, October 22, 2011

Jazba-e-Parwaaz, Apne Fazaiyye ke Andaz ( Tribute to PAF)

Apne Fazaiye ke yeh Andaz dekhye
Shahee'n bacchon ka Jazba-e-Parwaz dekhye
   Hamaray Hawai Jahazon ka Aaj 
   Fizaaon pe Qabza Hawaon mai Raaj
   Uqaab-e-Falak Sair Shahee'n Bacchay
   Paron par rakhain Sarfaroshi ke Taaj
Parcham Fazaiyye ka Sarafraaz Dekhye
Apne Fazaiye ke yeh Andaz dekhye
Shahee'n bacchon ka Jazba-e-Parwaz dekhye
   Banay hain Mulk-o-Millat ke Saharay
   Falak Parwaz Tayyaray Hamaray
   Par Afsaa'n jis tarah Noori Farishtay
   Darakhsha'n jis tarah Gardoo'n pe Taaray
   Ghalib hain har Mahaaz pe Janbaz dekhye
Apne Fazaiye ke yeh Andaz dekhye
   Shahee'n bacchon ka Jazba-e-Parwaz dekhye
   Apne Iqdaam hai kia kia sabab-e-naaz apne
   Chhaa gaye Jang ke Maidan mai Janbaz apne
   Behr-o-Bar mai hain rawan Bahri-o-Barri Afwaj
   Hukumraa'n aaj hawa par hain Hawa Baaz apne
Woh chha gaye Hawa pe Hawa Baaz dekhye
Apne Fazaiye ke yeh Andaz dekhye
Shahee'n bacchon ka Jazba-e-Parwaz dekhye

Singer             : Taj Multani & Chorus
Poet                : Raees Amrohawi
Released         : 14 Sept 1965 (Durin War)
Radio Pakistan Karachi

Shaheen Sifat Tere Hawa Baz ( Tribute to PAF-Lyrics )



Shaheen Sifat yeh tere Hawa Baz aye Fiza-e-Pak
In Ghaziyon pe Saya figan hai Khuda-e-Pak
Seenon mai Sabr-o-Zabt-o-Sukoon-o-Raza ka Noor
Chehron pe Lutf-o-Mehr-o-Khuloos-o-Wafa ka Noor
Peshaniyon pe Jazba-e-be Inteha ka Noor
Aankhon mai Aitemad-o-Yaqeen ki Zia ka Noor
Shaheen Sifat yeh tere Hawa Baz aye Fiza-e-Pak
In Ghaziyon pe Saya figan hai Khuda-e-Pak
Millat ko kar diya Sar-afraz Marhaba
Yeh hosla yeh azm yeh Aijaz Marhaba
Shaheen Bachhon ki Jur'at-o-Parwaz Marhaba
Ku-e-Butaa'n mai Goonj rahi hai Sada-e-Pak
Shaheen Sifat yeh tere Hawa Baz aye Fiza-e-Pak
In Ghaziyon pe Saya figan hai Khuda-e-Pak
Apne Fizaiye ka hai jaah-o-jalal kia
Guzray idhar se Saya-e-Batil sawall kia
Par bhi jo mar jai kisi ki majaal kia
Hai pak aur rahay gi Hawa-e-Pak
Shaheen Sifat yeh tere Hawa Baz aye Fiza-e-Pak
In Ghaziyon pe Saya figan hai Khuda-e-Pak

Singer             : Taj Multani & Chorus
Poet                : Raees Farough
Released        : 14th Sept 1965 (During War)
Radio Pakistan Karachi
Available       : EMI Long Play Patriotic Songs No.1346


Jang Khed nai hondi Zananiyan di-Aj Hindian Jang di gal

Aj Hindiyan jang di gal chhereen
Ankh hui heraan heraaniyan di
Maharaj aye khed talwar di aye
Jang khed nahi hondi zananiyan di 
Jang khed nahi hondi zananiyan di
Aseen sindhi bangali baloch pathay
aseen putar punjab de paaniyan de
Aseen nasal Mehmood de ghaziyan di
dudh peetay ne mawaan pathaniyan de
Pehlon cher ke hun de nas de o
Sat saho tay Pakistaniyan di
Maharaj aye khed talwar di aye
Jang khed nahi hondi zananiyan di
Jang khed nahi hondi zananiyan di
Sohn Rab di jibh noon wadh diye
mandi jo bhi karay Pakistan di gal
Wich khariyan de ankh khuli aye
Kehri sachi aye kehray Eiman di gal
Aslaha hor kuj aye jazba hor shay we
Kufr samjh na sakay Eiman di gal 
Tul hor Shahedan de khoon da aye
Qeemat hor ganga de paniyan di
Maharaj aye khed talwar di aye
Jang khed nahi hondi zananiyan di
Jang khed nahi hondi zananiyan di
Tusi zulm aqleetan naal kar ke
kari waang ubaal ao khaonday ao
Dilli door da nai asaan ghaziyan toon
Kahnoon jan ke maut bulanday ao
Lal qila te Taj mahal saday
sahnoon chher ke yaad dilaande ao
Aseen sabh hisaab chukaonde nain
Sahno qasam aye aihna nishaniyan di

Maharaj aye khed talwar di aye
Jang khed nahi hondi zananiyan di
Jang khed nahi hondi zananiyan di


Singer                  :  Taj Multani &  Chorus
Poet                     :  Dr.Rasheed Anwer
Music                  : Natthu Khan
Released             :  11 Sept 1965
Radio Pakistan Karachi