Search Patriotic Song,Singer,Poet in This Blog.

Friday, December 29, 2017

History of Pakistani Patriotic Songs ( Part 3 ) by Absar Ahmed


قومی نغمات کی مختصر تاریخ 
قسط 3
تحریر و تحقیق : ابصار احمد

ریڈیو پاکستان کراچی نے اپنے قیام کے بعد یہاں سے کئی قومی نغمات نشر کیے چونکہ اس وقت ریکارڈنگ کی سہولیات نہیں تھیں اسی لیے وہ آوازیں ہوا کے دوش پہ ہی بکھر کے آزاد فضاؤں میں تحلیل ہوگئیں ، ریڈیو پاکستان کے ماہنامہ آہنگ اور کیو شیٹ کے مطابق 1955 تک یہاں کے یہ قومی نغمات براہِ راست نشر ہوئے ۔
دیس ہمارا ہم کو پیارا ( گلوکارہ منور سلطانہ )
زندہ باد اے پاکستان ( ایس بی جان )
یہ نشان یہ ہمارے وطن کا نشاں ( غلام دستگیر و ساتھی )
اے وطن اے وطن تو مہکتا رہے ( کجّن بیگم  و ساتھی )
اس دوران کراچی ریڈیو کو سلیم گیلانی کی توسط سے ایک ایسی آواز بھی ملی جس نے آنے والے وقتوں میں پاکستان میوزک انڈسٹری میں تہلکہ مچادیا ، وہ آواز مرحوم احمد رشدی کی تھی جو معہ اہل و اعیال حیدر آباد دکن سے ہجرت کرکے آئے تھے ، ان کے والد عالمِ دین اور شیخ الحدیث تھے اس لیے احمد رشدی کے مذہبی نظریات بھی یہاں مشہور تھے جو فی الحال خارج از بحث ہیں ۔ احمد رشدی نے ۱۹۵۲ میں مہدی ظہیر کے تحریر کردہ نیم قومی نغمہ " بندر روڈ سے کیماڑی"گاکر اپنے فنّی کیریئر کا آغاز کیا اور بعد میں وہ پاکستان کے پہلے قومی گلوکار بنے جنہوں نے قومی نغمات میں نصف سینکڑا رقم کیا ہو !
اسی طرح سلیم گیلانی کی ایک اور دریافت راجھستانی موسیقی کا ایک عظیم نام شہنشاہِ غزل مہدی حسن بھی ہے تاہم مہدی صاحب کے قومی نغمات کا آغاز جنگِ ستمبر سے ہوتا ہے ۔ 
ریڈیو پاکستان کراچی کو پاکستانی قومی نغمات میں جو سب سے اہم اعزاز حاصل ہے وہ قومی ترانے کی ریکارڈنگ اور تیاری ہے ، چونکہ کراچی اس وقت پاکستان کا دارلحکومت تھا اور پھر اکابرینِ نشریات و براڈکاسٹنگ یہیں تھے اسی لیے یہ پراجیکٹ کراچی ریڈیو کو ملا ۔ قومی ترانے کی تیاری پر مفصل کتاب " پاکستان کا قومی ترانہ کیا حقیقت کیا فسانہ" جناب عقیل عباس جعفری صاحب نے تحریر کی ہے جو اس موضوع پر تفصیلی اور منفرد کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معیاری سند بھی ہے ۔ اسی لیے یہاں قومی ترانے کا اختصار سے ذکر ہوگا ، قومی ترانے کی کمیٹی 1948 میں بنی اور احمد جی چھاگلہ نے اس کی دھن 1949 میں مرتب کی جو مشرقی اور مغربی دھن کی خوبصورت آمیزش تھی جس میں رزمیہ آہنگ بھی شامل تھا ، حکومتِ پاکستان نے قومی ترانے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا اور دھن کے ریکارڈز شاعروں کو بھیج کر اس کی شاعری طلب کی ، واضح رہے کہ جنوبی افریقہ میں مقیم ایک محبِ وطن تاجر اے آر غنی نے قومی ترانے کے موسیقار اور شاعر کے لیے پانچ پانچ ہزار روپے کی رقم مختص کی تھی ، قومی ترانہ کمیٹی کو 720 قومی ترانے موصول ہوئے جس میں سے ابو الاثر حفیظ جالندھری کے ترانے کو منتخب کرکے 7 اگست 1954 کو اس کی ریکارڈنگ کرائی گئی ، جس میں ریڈیو کے ۱۵ اسٹاف آرٹسٹ شامل تھے جن میں احمد رشدی، نسیمہ شاہین ، زوّار حسین ، کوکب جہاں ، شمیم بانو ، نجم آرا، غلام دستگیر ، اختر وصی علی ، رشیدہ بیگم ، نہال عبداللہ ،انور ظہیر ، اختر عباس اور خورشید بیگم کی آوازیں ہیں قومی ترانہ پہلی بار 13 اگست 1954 کو ریڈیو پاکستان کے تمام اسٹیشنز سے نشر ہوا تو دنیا میں ایک خوبصورت ترانے کا اضافہ ہوچکا تھا ، اس وقت سے موسیقار چھاگلا صاحب بقیدِ حیات نہ تھے اس لیے انہی کی دھن پر موسیقی کو نہال عبداللہ نے مرتب کیا تھا جبکہ پہلی بار اس کی دھن چھاگلا صاحب نے نیوی بینڈ کے ہمراہ شہنشاہِ ایران آغا رضا شاہ پہلوی کی آمد پر بجائی تھی ۔

پاکستانی قومی ترانے سے قبل ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے زیرِ اہتمام آزاد کشمیر کا ترانہ بھی تیار ہوا ، اس ترانے کو بھی حفیظ جالندھری نے تحریر کیا تھا ابتدا میں اس کو سرکاری قومی ترانے اک درجہ حاصل نہ تھا لیکن جب شاعر نے پاکستان کا قومی ترانہ تحریر کیا تو دونوں ریاستوں میں اتحادی علامت کے باعث یہ سرکاری قومی ترانہ شمار ہوا ،  وطن ہمارا آزاد کشمیر اس ترانے میں نمایاں آواز منور سلطانہ کی تھی جبکہ کورس میں نذیر بیگم ( پنڈی والی ) اور انیقہ بانو کی آوازیں نمایاں تھیں 
۱۹۵۶ میں جب ملک میں جنرل ایوب خان نے سیاسی انتشار کا فائدہ اٹھاکر فوجی حکومت قائم کردی اور جمہوری راج کا نام دیا تو لاہور ریڈیو سے دلشاد بیگم نے " آیا اے جمہوری دور" ریکارڈ کرایا جسے اسمعٰیل متوالا نے تحریر کیا ، اسی طرح دلشاد بیگم نے " نگری نگری شہر شہر پند پنڈ وچ اپنا راج" بھی ریکارڈ کرایا ۔ 
پاکستان فلم انڈسٹری کے ذریعے قومی نغمات کو اس وقت فروغ حاصل ہوا جب 1958 میں فلم بیداری ریلیز ہوئی ، یہ فلم دراصل بھارتی فلم جاگرتی کی طرز پر تھی کچھ لوگ اسے چربہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن دراصل کاسٹ جن میں مرکزی کردار رتن کمار بھی شامل ہیں پاکستان آچکے تھے اسی لیے اس جذباتی کہانی کو انہوں نے پاکستان میں فلمایا اور اس میں فیاض ہاشمی مرحوم نے وہ قومی نغمات تحریر کیے جو پاکستانی قومی نغمات میں مقبولیت کے حامل ہیں ، چربہ کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ1997 میں لندن فلم فیسٹیول میں برصغیر کی بہترین بیداری کو قرار دیا گیا ناکہ جاگرتی کو ! اس فلم میں منور سلطانہ نے فتح علی خان کی موسیقی میں " اے قائدِ اعظمؒ تیرا احسان ہے احسان " گایا تو سلیم رضا نے "ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے ، اس ملک کو رکھنا میرے بچون سنبھال کے" اور "آو بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی" جیسے قومی نغمات بھی نذرِ وطن کیے ، فلم بیداری اپنی کہانی اور نغمات کی وجہ سے ہٹ ہوئی اور ایک عرصہ تک سنیماوں میں اس کے شوز لگتے رہے بلکہ کئی سنیماوں میں اسکول کے بچوں کو یہ فلم مفت دکھائی گئی ۔ اس کے نغمات بھی ریڈیو پاکستان سے گونجتے رہے اور آج بھی نشر ہوتے ہیں ۔
1961 میں ریڈیو پاکستان نے موسیقی کے فروغ کے لیے ٹرانسکرپشن سروس کا آغاز کیا جس نے ملّی نغمات بھی بنائے تاہم جنگِ ستمبر تک ان کی تعداد ذیادہ نہ تھی جس کی وجہ پچھلی اقساط میں ہی درج کی جاچکی ہے ، ریڈیو پاکستان کراچی ٹرانسکرپشن سروس ( موجودہ سینٹرل پروڈکشن یونٹ ) نے سب سے پہلا قومی نغمہ  یہ وطن یہ چمن اس پہ سب کچھ فدا 1961 میں احمد رشدی اور زوار حسین کی آوازوں میں تیار کیا اس نغمے کو حمایت علی شاعر نے تحریر کیا تھا ۔ ریڈیو پاکستان ڈھاکا سے اس وقت  "آمر پاک دیش " مقبول ہوا جسے عباس دین اور ساتھیوں نے گایا تھا ۔ 
قومی ترانے میں شامل ایک آواز نجم آرا کی بھی تھی انہوں نے کراچی ریڈیو سے علاقائی طرزِ موسیقی میں دو خوبصورت قومی نغمات ریکارڈ کرائے جنہیں یونس سیٹھی نے تحریر کیا تھا یہ نغمات ٹرانسکرپشن سروس نے اپنی ٹیپس پر محفوظ کرکے تمام اسٹیشنوں کو بھجوائے اس طرح ان نغمات کی گونج کراچی تا ڈھاکا پہنچ چکی تھی ، ان نغمات کے بول یہ تھے :
 کس درجہ دل فریب وطن کی ہیں وادیاں
  اور 
 اپنے وطن کی شان یہی ہے اے نذرِ وطن 
1962 میں فلم انقلاب میں ایک نئے گلوکار مسعود رانا نے اپنا پہلا فلمی نغمہ ریکارڈ کرایا جو ملّی نوعیت کا تھا ، یہ دراصل صدرِ مملکت ایوب خان کی توصیف میں تھا جس کے بول کچھ اس طرح تھے 
مشرق کی تاریک فضا میں نیا سویرا چمکا ہے 
اب یہ راز کھلا ہے کس نے کس کو کتنا لوٹا ہے
آیا ہے ایوب ہمارا الفت کا پیغام لیے 
"گرتے ہوؤں کے جس نے دل تھام لیے 
یہ نغمہ صدر ایوب کے حامیوں میں بے حد مقبول ہوا اور ریڈیو سے بھی بار بار نشر ہوتا رہا ۔ 1962 ہی میں تعلیم کے موضوع پر بننے والی فلم چراغ جلتا رہا  میں بھی ایک ہدایتکار فضل احمد کریم فضلی کا تحریر کردہ نغمہ  آؤ چلیں لے کے پھر طبل و علَم تیز تیز بھی نغماتِ وطن کی صف میں مقبول ہوا جسے کورس کی شکل میں ریکارڈ کیا گیا۔ 
1964 میں ایس بی جان اور ساتھیوں کی آوازوں میں " سبز پرچم اڑاتے چلو دوستو ! " بھی پرچمِ وطن پر ایک مقبول نغمہ قرار پایا اسی طرح لاہور ریڈیو پر منیر حسین، دلشاد بیگم اور ساتھیوں نے  "پرچمِ ستارہ و ہلال جھلملائے جا  "گاکر قومی پرچم کو نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔ پاکستان کے ابتدائی قومی نغمات میں پرچم ، قائدِ اعظم اور وطنِ عزیز کے لیے دعائیہ کلمات ذیادہ نمایاں ہیں ۔
( اختتام دورِ اوّل )
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔