Search Patriotic Song,Singer,Poet in This Blog.

Showing posts with label Saleem Raza. Show all posts
Showing posts with label Saleem Raza. Show all posts

Friday, August 24, 2018

Old Pakistani Patriotic Songs ( 1960 's ) Article by Absar Ahmed




 !!ذکرساٹھ کی دہائی کے مقبول قومی نغموں کا ۔۔۔۔ 

   !تمام اہلَ وطن کو جشنِ تخلیقِ پاکستان مبارک 
آج صبح محترم جناب عابد علی بیگ یا غالباََ شکور پٹھان صاحب کی پوسٹ  جنگِ ستمبر سے قبل کے ملّی نغمات  بارِ دگر نگاہ سے گذری ۔ قومی نغمات پر مضامین پڑھنے کا اپنا ہی لطف ہے اور وہ بھی جب جناب شکور پٹھان جناب عقیل عباس جعفری یا پھر جناب عابد علی بیگ جیسے افراد لکھ رہے ہوں ۔ ویسے لاہور ریڈیو کے معروف براڈ کاسٹر محترم سلیم الرحمٰن صاحب خوب لکھتے ہیں کہ قاری اُن کے لفظوں میں بہہ کر اُنہی لمحات میں کھوجاتا ہے تاہم آج تک قومی نغمات پر اُن کا کوئی مضمون نگاہ سے نہیں گذرا۔ عابد صاحب نے جنگِ ستمبر سے قبل ،معروف قومی نغمات کے حوالے دیے تھے تو سوچا کہ اب وقت کی فراغت کو غنیمت جانتے ہوئے 60 کی دہائی کے معروف قومی نغمات پر کچھ لکھوں ۔ ویسے اُس عشرے کے گذرجانے کے 17 برس بعد یعنی 1987 کو میں نے آنکھیں کھولیں لیکن چشمِ تصور میں وہ دور بھی محسوس کرسکتا ہوں جب گھروں میں گراموفون یا ریڈیو گرام ہوتے تھے ۔ 78 کی رفتار والے ریکارڈز کا زمانہ جارہا تھا اور 45 کی رفتار والے پلاسٹک کے ریکارڈ آنا شروع ہوگئے تھے جن کی عمر بھی طویل ہوتیں اسی لیے میرے پاس قومی نغمات کے کئی ریکارڈ بالکل نئی حالت میں موجود ہیں ! بہرحال بات ہورہی تھی قومی نغمات کی تو اس ضمن میں جنگِ ستمبر کے جنگی ترانوں کی اپنی ہی ایک تاریخ ہے اور وہ خود قومی نغمات کا اہم باب ہیں جن پر پاک فوج کے سرکاری جریدے   " ہلال  " میں "   گیت بنے ہتھیار  "  جیسا مضمون لکھ چکا ہوں جو الحمداللہ ایک حوالہ بن چکا ہے اسی لیے جنگی ترانوں کو ہذف کرکے اُس دور کے کچھ معروف قومی نغمات کا ذکر کرتا ہوں ۔ 
  سلیم رضا اور احمد رشدی نے  1964 میں کراچی ریڈیو پر خلیل احمد کی موسیقی میں حمایت علی شاعر کے 2 قومی نغمات  " سوئے منزل چلے اور بہ یک دل چلے " اور " ساتھیو ! سبز پرچم اڑاتے چلو  زندگی کے ترانے سناتے چلو " ریکارڈ کروائے ۔ آخرالذکر قومی نغمہ تو گویا وطنِ پاک کے دلکش مناظر اور صبحِ وطن کی خوبصورت تصویر پیش کررہا تھا خلیل احمد نے اس کی موسیقی بھی خوب ترتیب دی جو رزمیہ انداز کی تھی۔ موصوف اُن دنوں کراچی کے علاقے انکوائری آفس ناظم آباد میں مقیم تھے اور ریڈیو پر گاہے بہ گاہے طرز سازی کرتے ۔ یہ نغمہ حال ہی میں اپنے ایف ایم پروگرام  ہرتان پاکستان  میں شامل کیا تو کئی افراد کے فون اور پیغامات آئے اور انہوں نے اپنی اس گمشدہ یاد کو زندہ کرنے پر مبارک باد دی ۔ اللہ سب کو خوش رکھے ( آمین ) ۔ 
ان نغمات کے علاوہ دورانِ جنگ حبیب جالب مرحوم کے بھائی مشتاق مبارک نے ایک پر جوش قومی نغمہ لکھا جو جنگی حالات کے ساتھ ساتھ عمومی قومی نغمہ بھی تھا ، بول بھی کیا خوب تھے کہ 
 جینا ہے اگر یارانِ وطن ۔۔۔ جینا ہے اگر یارانِ وطن
اخلاص و وفا کی شمعوں سے پُرنور کرو ایوانِ وطن
اس نغمہ کا ٹیپ کا مصرع تھا کہ 
 تاریخ کی جب بھی آنکھ اٹھے’’ 
 ‘‘بے داغ ملے دامانِ وطن
اس پرجوش نغمے کو اقبال علی، تاج ملتانی ،ایس بی جان اور ساتھیوں نے گایا تھا لیکن اس میں واضح آواز اقبال علی مرحوم کی تھی ۔ اقبال علی صاحب کراچی ریڈیو کے اہم گلوکار تھے جن کی مردانہ آواز سامعین کو متاثر کرتی اور اُن کے قومی نغمات تو گویا اُن کی پہچان بن گئے ، اقبال علی غالباََ 1988 کو دنیا سے رخصت ہوئے تھے ۔ اُن کی شادی ریڈیو کی معروف گلوکارہ رشیدہ بیگم سے ہوئی اوراُن سے ہونے والی ایک بیٹی صدف اقبال نے بھی گلوکاری شروع کی تھی لیکن اب معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں ؟ رشیدہ بیگم نے بھی اسی عشرے میں کئی یادگار قومی نغمات گائے جن میں جنگ کے دوران عالم تاب تشنہ کا تحریر کردہ قومی نغمہ ’’ مہک رہا ہے وفا کے گُلوں سے یہ صحنِ چمن‘‘  بے حد مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ 1967 میں اقبال علی ، رشیدہ بیگم اور دیگر آرٹسٹس نے مل کر قائدِ اعظم کو شاندار نذرانہ ’’ اے قائدِ اعظم تو زندہ رہے گا پائندہ رہے گا ‘‘ بھی ریکارڈ کروایا ۔ 
اے نگارِ وطن، اے وطن کی زمیں ۔۔۔ تیرا ثانی زمانے میں کوئی نہیں‘‘ بھی انہی گلوکاروں کا شاندار نذرانۂ وطن تھا ۔’’ 
اب بات کرتے ہیں دہلی میں پیدا ہوکر ملتان میں سکونت اختیار کرنےوالی گلوکارہ اقبال بانو کی جنہوں نے دیگر کئی فنکاروں کی طرح جنگِ ستمبر ہی میں قومی نغمات کی دنیا میں قدم رکھا اور کئی یادگار قومی نغمات گائے ۔ اقبال بانو کی آواز میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا تحریر کردہ قومی نغمہ :
اے جوانانِ وطن اے جوانانِ وطن’’  
تم سے ہی ہر لحظہ خندہ ہیں گلستانِ وطن 
تم سے ہی ہر وقت تازہ ہیں بہارانِ وطن
تم اگر چاہو تو لوٹ آٸیں وہ ایامِ کہن 
 ‘‘اے جوانانِ وطن اے جوانانِ وطن 
مقبولیت حاصل کرگیا جس میں قوم کے جوانوں کو مخاطب کرکے انہیں قوم کا معمار بتایا گیا تھا ۔ استاد نتھو خاں صاحب کی موسیقی سے سجے اقبال 
 بانوکے اس نغمے کا خمار ابھی اترا ہی نہیں تھا کہ انہوں نے بینش سلیمی کا تحریر کردہ نغمہ 
‘‘ میرے وطن کے نوجواں ، وطن کے گیت گائے جا ‘‘
 گاکر نوجوانوں کو موٹیویٹ کیا ۔ ان نغمات میں نوجوانوں سے مراد فوجی بھائی ہی لیے جاتے تھے لیکن یہ دونوں نغمات اسکاؤٹس جمبوری میں بھی پیش ہوتے ۔ 
شہنشاہِ غزل مہدی حسن خاں صاحب مرحوم بھی اُس دور کے قومی نغمات میں نمایاں رہے اور اُ ن کی آواز میں میجر ضمیر جعفری صاحب کا تحریر کردہ نغمہ 
 جھلمل جھلمل ہر چہرے پر ہمت کا لشکارا’’
افق افق پر چاندی سونا روشن چاند ستارہ 
‘‘پاکستان ہمارا 
بھی مقبول ہوا تو حمید نسیم کے تحریر کردہ نغمے 
 تیرا وجود ہے میری ہستی’’  
میری نمود ہے تیری شان 
‘‘میرے پیارے پاکستان
 نے بھی قومی نغمات میں اُن کے مقام کو مزید بلند کیا ان دونوں نغمات کی موسیقی جناب نہال عبداللہ صاحب نے مرتب کی تھی جو مہدی حسن صاحب کے ماموں تھے ۔ خاں صاحب کی آواز میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب کا تحریر کردہ نغمہ 
 ہمت کے شناور کو بھنور بھی ہے کنارہ’’  
 ‘‘کشتی کا بھروسا نہ کھویّے کا سہارا
 بھی اُس وقت موجود افراد کو ضرور یاد ہوگا یا پھر یہ سطور پڑھتے ہوئے اُن کے ذہن میں فوراََ تازہ ہوجائے گا ۔ مہدی صاحب کے اِن نغمات پر تبصرہ کرنا تو میرے لیے ممکن نہیں ہاں البتہ میرے کرم فرما اور محقق کلاسیکل نغمات برادرم جناب عرفان گبول صاحب اس بارے میں جرور بتاسکتے ہیں کہ وہ کس راگ اور ٹھاٹھ میں کمپوز ہوئے !
احمد فراز کا تحریر کردہ نغمہ ’’ دائم آباد رہیں تیری انجمن ، اے وطن اے وطن اے وطن ‘‘ نگہت سیما کی آواز میں نشر ہوکر مقبول ہوا تاہم اس  نغمے کو 1971 کی جنگ میں طاہرہ سید نے ایک نئی طرز کے ساتھ گایا تو نگہت سیما صاحبہ کا نغمہ ماضی میں کھوگیا۔ ممکن ہے کسی کو یاد ہو 
اُس دور میں تاج ملتانی صاحب کا نام نہ لینا ذیادتی ہوگی جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے ذیادہ قومی نغمات گائے ہیں جو ذیادہ تر جنگی ترانے تھے ،1968 میں بہزاد لکھنوی مرحوم کا تحریر کردہ نغمہ ’’ یومِ آزادی پر کرتے ہیں ہم پرچم کو سلام‘‘اور کلامِ اقبالؒ ’’ یارب ! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے ‘‘ اور ’’ یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے ‘‘ نے تو گویا تاج ملتانی کی شہرت کو چار چاند لگادیے تھے ۔ ان نغمات میں اقبال علی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔
عشرت جہاں صاحبہ جو اِس وقت بقیدِ حیات اور علیل ہیں کجن بیگم اور شمیم بانو جیسی ریڈیو آرٹسٹس کی ہمشیرہ تھیں انہوں نے کوکب جہاں کے ساتھ مل کر جناب جوہر میر صاحب کا تحریر کردہ نغمہ’’ سرزمینِ وطن ، ذرہ ذرہ تیرا رشکِ لعلِ یمن ‘‘ گایا جو اُس دور کا ایک اور یادگار نغمہ ہے ۔
کراچی ریڈیو کی ایک اور فنکارہ خورشید بیگم جن کی آواز قومی ترانے میں بھی شامل ہے وہ بھی بقیدِ حیات اور لندن میں مقیم ہیں اُن کی آواز میں جناب الطاف پرواز صاحب کا تحریر کردہ نغمہ ’’ اے وطن پاک وطن ، میری آنکھوں کے لیے سُرمہ تیری خاک وطن‘‘ بھی مقبول اور یادگار قومی نغمات میں شمار ہوتا ہے ۔
ساٹھ کے عشرے کے آخری سالوں میں ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں جناب منظر ایوبی صاحب کا تحریر کردہ نغمہ
 چڑھتا چاند ابھرتا سورج پیارا پاکستان
دلکش دلکش روشن روشن سارا پاکستان 
اور 
1970 میں نگہت سیما ، اقبال علی، اسما احمد اور دلشاد بٹ کی آوازوں میں صہبا اختر کا لکھا ہوا نغمۂ پرچم ’’ سلام پرچمِ وطن سلام ‘‘ بھی اس عشرے کے معروف اور ہر دلعزیز قومی نغمات تھے ۔ ملکہ ترنم کا نغمہ پہلے زوار حسین اور ساتھیوں نے بھی گایا تھا ۔
کلامِ اقبالؒ جو ملّی نغمات ہی کی اہم جہت ہیں اُن میں شمیم بانو ، تاج ملتانی اور ساتھیوں کی آوازوں میں ’’ کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ ‘‘ اور شمیم بانو ہی کے ہمراہ کجن بیگم ، عشرت جہاں اور ساتھیوں کی آوازوں میں استاد نتھو خاں صاحب کی مستند طرز پر ’’ خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ‘‘ نمایاں اور مقبول قومی نغمات ہیں ۔ زوار حسین صاحب کی آواز میں مہدی ظہیر کی موسیقی میں فارسی کلامِ اقبالؒ " تیز ترک گامزن منزلِ مادور نیست " کا شمار بھی یادگار قومی نغمات میں ہوتا ہے جو صدر ایوب خان کے عشرہٕ ترقی کے موقع پر روزانہ ریڈیو سے صبح کی پہلی مجلس میں نشر ہوتا ۔ اس کی موسیقی میں اونٹوں کے قافلے کو مدنظر رکھتے ہوئے گھنٹیوں کی آوازیں بھی شامل کی کیں کیونکہ زبورِ عجم میں شامل اس نظم کا  عنوان ہی " نغمہٕ سارباں " ہے ۔
وہ عشرہ دورِ ایوبی پر محیط تھا اسی لیے جنگِ ستمبر کے بعد ریڈیو سے کورس آوازوں میں رئیس فروغ مرحوم کا تحریر کردہ شانِ ایوبی میں نغمہ ’’رہبرِ محترم ہم ترے ساتھ ہیں‘‘ بھی جنگ کے دوران مقبول ہوا ۔ جنرل ایوب خان مرحوم سے لوگوں کو اختلاف ہوسکتا ہے لیکن اپنے والد سمیت کئی افراد کو ایوب خان کا پُر زور حامی پایا ہے اور حال ہی میں شکور پٹھان صاحب کے بلاگ نے تو اُس دور کی تصویر اور واضح کردی ۔ کیا زمانہ ہوگا کہ جب سادہ مزاجی اور سادہ طبیعت عام تھی !
ساٹھ کی دہائی ہمارے قومی نغمات کے عروج کی دہائی تھی جس میں بے شمار اور بیش بہا قومی نغمات بنے لیکن ماضی کی صرف چند صوتی تصاویر بس یونہی آپ کو دکھا دیں ورنہ مضمون لکھنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔ یقینا یہ عہد جس جس نے دیکھا ہوگا انہیں ہمارے یہ قومی نغمات ضرور یاد آئیں گے جن میں سے اکثر اب نایاب ترین ہیں جس کی وجہ مستند اداروں کی اس جانب بے اعتنائی اور پھر گراموفون کمپنیوں کی جانب سے ان کے ریکارڈ ریلیز نہ کرنا ہے پھر بھی کانوں کی دہلیز پر یہ نغمات احساس میں دستک دیتے رہیں گے ۔
( ابصار احمد )

Thursday, December 13, 2012

Sathiyo! Sabz Parcham Uraatay Chalo ( Milli Naghma-Lyrics )

Sathiyo! Sabz Parcham Uraatay Chalo
Zindagi ke Taranay Sunatay Chalo
Sathiyo! Sabz Parcham Uraatay Chalo
Zindagi ke Taranay Sunatay Chalo
Shaukh Perahanon mai Lehakti huwi, 
Zar Bakaf Khetiyan
Nannhay Bachhon ki Manind Hansti huwi, 
Gehoon ki Baaliyan
Apni Dhun mai Magan Raqs karti huwi, 
Doodh si Nadiyan
Ik Nayee Zindagi ki Taraf hain Rawaa'n
Sathiyo! Sabz Parcham Uraatay Chalo
Zindagi ke Taranay Sunatay Chalo
Shahrahon ke Itraaf Phelay huwe
Oonchay Neechay Makaa'n
Karkhanay, Dafaatir, Madarasay
Zindagi ke Nishaa'n
Apne Rangee'n Khwaabon mai Khoye huwe
Tifl-o-Peer-Jawaa'n
Kamra'n Kamra'n Shadma'n Shadma'm
Sathiyo! Sabz Parcham Uraatay Chalo
Zindagi ke Taranay Sunatay Chalo
Apni Dharti mai Lal-o-Jawahir Nehaa'n
Aasma'n Zar Afshaa'n
Apne Dasht-o-Daman Gulista'n Gulista'n
Rashk-e-Baagh-e-Jinaa'n
Apne Mehar-o-Maa-o-Anjum-o-Kehkasha'n
Hum Sukhan Hum Zubaa'n
Apne Hamrah hain Sab ke Sab Naghma Khwaa'n
Sathiyo! Sabz Parcham Uraatay Chalo
Zindagi ke Taranay Sunatay Chalo
Sathiyo! Sabz Parcham Uraatay Chalo
Zindagi ke Taranay Sunatay Chalo

Singer             : Saleem Raza & Chorus
Poet               : Himayat Ali Shaayer
Radio Pakistan Lahore

Tuesday, April 17, 2012

Aye Watan Mere Watan Pyare Watan Kis Qadar Shadab Hain Tere Chaman - Rare Patriotic Song (Lyrics & Download)









Aye Watan Mere Watan Pyare Watan
Aye Watan Mere Watan Pyare Watan
Kis Qadar Shadaab hain Tere Chaman
Aye Watan mere Watan Pyare Watan
Tera Har Mausam Khushi ka Raaz daa'n
Tere Jhonkon mai Hayat-e-Javedaa'n
Hayat-e-Javedaa'n............................
Tujh ko Hasil hai Bahar-e-Be Khizaa'n
Bahar-e-Be Khizaa'n...........................
Ta Abud Mehkain Tere Sarw-o-Saman
Aye Watan Mere Watan Pyare Watan
Kis Qadar Shadab hain tere Chaman
Aye Watan Mere Watan Pyare Watan
Log Jitnay bhi Yahan Abad hain
Abad hain..........................................
Teri KhushHaali se woh Dilshad hain
Dilshad hain.......................................
In ke Dil Har Khauf se Azad hain
Azad hain.........................................
Tu kahay to Baandh lain Sar se Kafan
Aye Watan Mere Watan Pyare Watan
Kis Qadar Shadab hain tere Chaman
Aye Watan Mere Watan Pyare Watan
Teri Izzat ke liye Kat jain ge
Kat Jain ge.....................................
Tera Parcham har Kaheen Lehrayen ge
Lehraain ge.....................................
Teri Azmat ke Taranay Gaayen ge
Dil se Jaai gi na Ab teri Lagan
Aye Watan Mere Watan Pyare Watan
Kis Qadar Shadab hain tere Chaman
Aye Watan Mere Watan Pyare Watan

Singer                       : Saleem Raza
Poet                          : Qateel
Music                        : G.A.Chishti
Released                   : 13th August 1965 ( One of Famous Songs During 1965 War )
Radio Pakistan Lahore.
Re-Sung                : Mehdi Hassan
Music                    : Nisar Bazmi
Pakistan Television Karachi Center.











اے وطن میرے وطن پیارے وطن
کس قدر شاداب ہیں تیرے چمن
اے وطن میرے وطن پیارے وطن
تیرا ہر موسم خوشی کا رازداں 
تیرے جھونکوں میں حیاتِ جاوداں
تجھ کو حاصل ہیں بہاریں بے خزاں
تا ابد مہکیں تیرے سرو سمن
اے وطن میرے وطن پیارے وطن
کس قدر شاداب ہیں تیرے چمن
اے وطن میرے وطن پیارے وطن
لوگ جتنے بھی یہاں آباد ہیں
تیری خوشحالی پہ وہ دلشاد ہیں
ان کے دل ہر خوف سے آزاد ہیں
تو کہے تو باندھ لیں سر سے کفن
اے وطن میرے وطن پیارے وطن
کس قدر شاداب ہیں تیرے چمن
اے وطن میرے وطن پیارے وطن
تیری عزت کے لیے کٹ جائیں گے
تیرا پرچم ہر کہیں لہرائیں گے
تیری عظمت کے ترانے گائیں گے
دل سے جائے گی نہ اب تیری لگن
اے وطن میرے وطن پیارے وطن
کس قدر شاداب ہیں تیرے چمن
اے وطن میرے وطن پیارے وطن

Saturday, December 31, 2011

Tauheed ke Matwalo ( Lyrics )

Tauheed ke Matwalo
Baatil ko Mita dain ge
Yeh Aaj Qasam Khalo
Tauheed ke Matwalo......................
Chaho to Paharon ko Rastay se hata do Tum
Dehke Huwe Angare Gulzar bana do Tum
Aye Deen ke Rakhwalo(2)
Tauheed ke Matwalo
Baatil ko Mita dain ge
Yeh Aaj Qasam Khalo
Tauheed ke Matwalo......................
Maidaan mai Dushman par Chhaa jao Musalmano !
Tareekh phir aaj Apni Dihrao Musalmano !
Aye Sher ke Dil walo........(2)
Tauheed ke Matwalo
Baatil ko Mita dain ge
Yeh Aaj Qasam Khalo
Tauheed ke Matwalo......................
Maidaan mai Kafir ko Har Gaam pe Maara hai
Aye Ghaziyo Agay Barho Kashmir hamara hai
Kashmir ko Apna lo.........(2)
Tauheed ke Matwalo
Baatil ko Mita dain ge
Yeh Aaj Qasam Khalo
Tauheed ke Matwalo......................


Singer               : Saleem Raza & Masood Rana & Chorus
Poet                  : Tufail Hushyarpuri
Released          : Sept 1965 ( During War )
Film                  : Moajza ( Feb 1966 )



Friday, October 28, 2011

Aao Bachhon Sair karain (Lyrics)




Aao Bacchon Sair Karaayen Tum ko Pakistan ki by Saleem Raza - MP3 Free Download - Click Here

Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Aao Bachchoun sair karayen tum ko Pakistan ki
Jis ki khatir ham ne di qurbani lakhoon jaan ki
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Mashriq mein Bangaal sunehra her ek taraf heryaala hai
Yahaan ka patsun sonay or chandi men tulnay wala hai
Sailaboun ne seencha iss ko toofanoun ne pala hai
Yahaan ka bachcha bachcha apni qoum pe mernay wala hai
Yaheen Siraj-ud-Daula ne dunya apni qurban ki
Jis ki khatir ham ne di qurbani lakhoon jaan ki
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Daikho yeh hay sindh yahan zalim Dahir ka tola tha
Yaheen Mohammad Bin Qasim Allahu Akber bola tha
tooti hoi talwaroun men kia bijli thee kia shola tha
gintee kay kuch ghazi they lakhoon ka lashker tola tha
yahaan kay zarray zarray men ab doulat hay emaan ki
Jis ki khatir ham ne di qurbani lakhoon jaan ki
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Yeh apna Panjaab saja hay baray baray darbaroun se
jagadiya Iqbal ne isko azaadi kay naroon se
iss ke jawanoun ne khela he apnay khoon ke dharoon se
Dushman tharra jaatay hain ab bhee in ki lalkaroon se
door door thak dhaak jami yahaan ke sher jawan ki
Jis ki khatir ham ne di qurbani lakhoon jaan ki
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Yeh ilaaqa sarhad ka he sab ki nirali shaan yahaan
Bandooqoun ki chaoun men bachay howtey hain jawaan yahaan
Thoker men zalzalay yahaan hain mutthee men toofaan yahaan
Sir se kafan baandhey phirta hey daikho her ek Pathaan yahaan
Qaum kahey to abhee laga dain bazi yeh sab jaan ki
Jis ki khatir ham ne di qurbani lakhoon jaan ki
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Aik taraf Khaiber dekho Sarhad ki shaan barhata hai
Shere khuda ki quwat ka afsaana yeh duhraata hai
Aik taraf Kashmir hamain jannat ki yaad dilaata hai
Yeh Ravi or Atak ka pani amrit ko bhee sharmaata hai
Piyaaray shaheedoun ka sadqa he doulat Pakistan ki
Jis ki khatir ham ne di qurbani lakhoon jaan ki
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Aao Bachchoun sair karayen tum ko Pakistan ki

Jis ki khatir ham ne di qurbani lakhoon jaan ki
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad!
Pakistan Zindabad! Pakistan Zindabad! 


Singer             : Saleem Raza & Chorus
Lyrics             : Fayyaz Hashmi
Music              : Fateh Ali Khan
Film                : Bedaari

Aao Bacchon Sair Karaayen Tum ko Pakistan ki by Saleem Raza - MP3 Free Download - Click Here




Wednesday, October 12, 2011

Is Mulk ko Rakhna Mere Bacchon Sambhaal ke....!! ( Lyrics & Download )

Paansay Sab hi Ulat gaye 
Dushman ki Chaal ke
Khelain hain Hum ne 
Khel Kuch Aise Kamal ke
Manzil pe ayee Qaum 
Har Bala ko Taal ke
Barson ke bad phir Uray 
Parcham Hilaal ke
Hum Laye hain Toofan se Kashti Nikaal ke
Is Mulk ko Rakhna Mere Bachon Sambhal ke
Barson ke Bad phir Uray 
Parcham Hilaal ke
Is Mulk ko Rakhna Mere Bachon Sambhal ke
Dekho kaheen Ujraay na hamara yeh Bagheecha
Is ko Lahoo se Apne Saheedon ne hai Seencha
Is ko Bachaana Jan Museebat mai Daal ke
Is Mulk ko rakhna mere Bacchon Sambhal ke
Dunya ki Siyasat ke Ajab Rang hain yaaray
Chalna hai magar Tum ko to Qur'an ke Saharay
Har Aik Qadam uthana zara Dekh Bhaal ke
Is Mulk ko Rakhna Mere Bacchon Sambhaal ke
Tum Rahat-o-Aaram ke Jhoolay mai na Jhoolo
Kanton pe hai Chalna mere Hnastay huwe Phoolon
Lena Abhi Kashmir hai Yeh Baat na Bhoolo
Yeh Baat na Bhoolo Yeh Baat na Bhoolo
Kashnir pe Lehrana hai Jhanda Uchhaal ke
Is Mulk ko Rakhna Mere Bacchon Sambhaal ke
Hum laye hain Tufaan se Kashti nikal ke
Is Mulk ko Rakhna mere Bacchon Sambhaal ke




Singer     : Saleem Raza
Poet       : Fayyaz Hashmi
Film       : Bedaari

Friday, September 23, 2011

Aye Hawa Ke Rahiyo.....Badlon ke sathiyo ( PAF Song-Lyrics & Download )

Aye hawa ke Rahiyo
Badlon ke Sathiyo
Par fasha'n Mujahido
        Tum watan ki laaj ho Pak sarzameen ki        Apni ja'n pe khel kr tum banay salamti
Aye hawa ke Rahiyo
Badlon ke Sathiyo
Par fasha'n Mujahido
        Tum fiza ka husn ho Asma'n ka naaz ho
        Tum dilon mai phelti roshni ka raaz ho
Aye hawa ke Rahiyo
Badlon ke Sathiyo
Par fasha'n Mujahido
        Gar ho quwat-e-yaqeen yeh hawa yeh faslay
        Aasma'n ki wusatain aik aik hech hain
Aye hawa ke Rahiyo
Badlon ke Sathiyo
Par fasha'n Mujahido
        Dushmanon ke baal-o-par kitni jaldi kat gaye
        Shahar shahar khof ke saye thay jo chhat gaye
Aye hawa ke Rahiyo
Badlon ke Sathiyo
Par fasha'n Mujahido
       Ur raha hai duur tak chand taray ka alum
       Amn hai nagar nagar aafiyat qada qadam
Aye hawa ke Rahiyo
Badlon ke Sathiyo
Par fasha'n Mujahido


Listen & watch this Song
Singer       :  Saleem Raza 
Poet          : Mehmood Sham
Release     : 14 Sept 1965
Remake    : Jawad Ahmed with Jupiters Band( In 1995 )
Radio Pakistan Lahore


Aye Hawa ke Rahiyo by Jawad Ahmed-Pak Air Force Song-MP3 Download-Click Here 


Monday, July 11, 2011

Sialkot Tu Zinda Rahe Ga-Zinda Rahe Ga ( Jangi Tarana-Lyrics )


Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Sialkot Tu Zinda Rage ga
Sialkot Tu Zinda Rahe ga
Zinda Qaumon ki Tareekh mai 
Naam Tera Tabinda Rahe ga
Zinda Rahe ga.................Zinda Rahe ga
Jammu-o-Kashmir se Pehle
Tu hai Nusrat ka Darwaza
Dushman bhi Ab Kar Betha hai
Teri Jur'at ka Andaza
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Sialkot Tu Zinda Rage ga
Sialkot Tu Zinda Rahe ga
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Shaair-e-Mashriq ka Tu Maskan
Tujh pe Buzurgon ka hai Saaya 
Jis ne Tujh par Hath Uthaya
Tu ne Us ka Naam Mitaya
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Sialkot Tu Zinda Rage ga
Sialkot Tu Zinda Rahe ga
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Doosri Jang-e-Azeem ke Bad
Nahi Dekhi hai Aisi Larayee
Sarhad Sarhad Dekh Chuki hai
Duniya Dushman ki Paspayee 
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Sialkot Tu Zinda Rage ga
Sialkot Tu Zinda Rahe ga
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Teri Sarhad Sarhad par
Dushman ka Qabrustan bana hai
Teri Janbazi ka Sikka
Duniya ne Ab Maan liya hai
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Sialkot Tu Zinda Rage ga
Sialkot Tu Zinda Rahe ga
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Pak Fauj hai Teri Muhafiz 
Aik Waar bus Aur Dikha de
Uth aur Naam Ali(Rza) ka le kar
Dushman ko Mitti mai Mila de
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga
Sialkot Tu Zinda Rage ga
Sialkot Tu Zinda Rahe ga
Zinda Rahe ga..................Zinda Rahe ga


Singer         : Saleem Raza & Chorus
Poet             : Nasir Kazmi
Released     : 18th Sept 1965 (During War)
Radio Pakistan Lahore.